جمعہ، 7 جولائی، 2017

ڈرتا ہے تو ... !


ڈرتا ہے تو ... !





نسبت فاروق گر مفقود ہے 
نام رکھ لینے سے کچھ حاصل نہیں 



حکمت و دانائی سے ڈرتا ہے تو 
سروری تیری کسی قابل نہیں 



حسیب احمد حسیب ​

ہفتہ، 18 مارچ، 2017

ہم عشق کی مستی میں شاداں ، اظہار تمنا بھول گۓ

غزل

ہم عشق کی مستی میں شاداں ، اظہار تمنا بھول گۓ
اب آپ ہی خود پر ہنستے ہیں ، کیا یاد رہا کیا بھول گۓ


ہم حسن سماعت کے مارے ، آواز تو انکی یاد رہی
محروم تصور ہیں کتنے ہیں ، ہم انکا سراپا بھول گۓ 


کچھ دور توانکی رخصت کو رستے میں ہم انکے ساتھ چلے 
کب آؤ گے ہم نے پوچھا تھا ، مت جاؤ یہ کہنا بھول گۓ


اب آخر شب میں سورج کے دیدار کی ہم میں تاب نہیں 
ہم اس کی گلی سے گزرے تو، پر جان کے ملنا بھول گۓ

اس شوخ ادا کی باتوں نے اک سحر سا ہم پر پھونکا تھا 
کیا سوچ کے بیٹھے تھے دل میں کیا بات تھی کہنا بھول گۓ

وہ دور ہیں ہم سے پر خوش ہیں وہ خوش ہیں اس پر ہم خوش ہیں 
اب اپنے دکھوں پر کیا رونا ، کیا غم تھا ہمارا بھول گۓ

اشعار میں دل کی باتوں کو ، کیوں کھول رہے ہو آج حسیب
کیا ضبط کا دامن چھوٹ گیا ، یا ہونٹ کو سینا بھول گۓ


حسیب احمد حسیب

بس بچائے گا اب خدا مجھ کو

تازہ غزل لوگ سمجھے ہیں جانے کیا مجھ کو بس بچائے گا اب خدا مجھ کو اسکے جانے کے بعد مشکل ہے کوئی بھائے گا دوسرا مجھ کو موت آۓ غم فراق تجھے کردیا جانے کیا سے کیا مجھ کو وہ ابھی تک مجھے نہیں بھولا لوگ دیتے ہیں آسرا مجھ کو دو قدم دور ہے مری منزل کب سے کہتا ہے ناخدا مجھ کو مجھ کو خوشیاں ملی ہیں ایسی بھی جن کا مشکل تھا سوچنا مجھ کو میری مجبوریاں قیامت تھیں تم سمجھ بیٹھے بے وفا مجھ کو خون دینے غریب ہی آئے شیخ دیتا رہا دعا مجھ کو جانتا ہوں ہر اک ادا اس کی وہ دکھائے گا کیا نیا مجھ کو جب میں بولا تو رک گئی دنیا وہ سمجھتے تھے بے نوا مجھ کو کتنا مشکل حسیب ہے جینا حوصلہ دے مرے خدا مجھ کو حسیب احمد حسیب

جمعرات، 19 جنوری، 2017

اے مری معصوم بہنا

اے مری معصوم بہنا ...!

اے مری معصوم بہنا تجھ پہ ہے لازم حجاب
سادگی کا تو ہے پیکر تو  بہت عزت مآب 


بے حجابی کی ہوائیں چل رہی ہیں چار سو
 تو خدا کے واسطے خود کو نہیں کرنا خراب


بے حیائی کے اندھیرے بڑھ رہے ہیں دن بہ دن
 بن کے ابھرے گی حیاء تیری زمیں سے آفتاب


جھوٹ ہیں سارے یہ آزادی کے وعدے یہ قرار
 ریشمی چالیں ہیں انکی دائو انکے لا جواب 


تو کہیں دھوکے میں انکے آگئی تو موت ہے
 لوٹنے کو بھیڑیے بے تاب ہیں تیرا شباب 


مردوزن کا محفلوں میں ہو رہا ہے اختلاط 
 اے مری بہنا مگر تو ان سے کرنا اجتناب 


تو خدا کے سامنے جائے گی اک دن سرخرو
 شرط بس اتنی سی ہے کرتی رہے گر تو حجاب


تیری نسبت فاطمہ سے ہے تری حرمت قدیم 
 بے حیائی کا نہیں کرنا کبھی تو ارتکاب 


آبگینے کی طرح نازک تیرے جذبات ہیں
 میں کبھی آنے نہیں دونگا تری آنکھوں میں آب


اور بھی ہیں نیکیاں اس دور میں ممکن مگر 
 با حجابی سے نہیں بڑھ کر کوئی دوجا ثواب


روشنی ہے میرے آنگن میں تجھی سے اے بہن
 میرے گلشن میں کھلے ہیں تیرے ہی دم سے گلاب


ہے ترے دم سے ہی روشن یہ جہان رنگ و بو
 اک تجلی نور کی مستور ہے زیر نقاب


کوئی کتنا بھی کہے لیکن کبھی نہ بھولنا
 اے مری معصوم بہنا تجھ پہ لازم ہے حجاب




حسیب احمد حسیب

بدھ، 9 نومبر، 2016

جو روشنی کا شہر تھا برباد ہو گیا ......

جو روشنی کا شہر تھا برباد ہو گیا ......

ہم نے سنا ہے روشنی ہوتی ہے کوئی شے
دیکھی نہیں مگر یہ بتاتے ہیں لوگ..! ہے​

آتی تھی میرے شہر میں سنتے ہیں آج ہم
اس کو اٹھا کے لے گیا ظالم کوئی صنم​

یہ روشنی ہے کیا یہ خلل ہے دماغ کا
ہم کو نہیں پتا کہ یہ ہوتی ہے کیا بلا​

آتی ہے میرے ملک میں یہ بھی کبھی کہیں
دیکھی کسی نے ہے یہ بتاتا کوئی نہیں​

سنتے ہیں اس کو کھا گیا عفریت تھا کوئی
و الله اس کے ساتھ یہ کتنی بری ہوئی​

تاریں گلی گلی میں یہ لٹکی ہوئی ہیں کیوں
دیکھے ہے ان کو آنکھ تو آتا نہیں سکوں​

پنکھوں پے مکڑیوں نے ہیں جالے بنا دیے
لوگوں نے تیل ڈال کے اے سی جلا دیے​

سنتے ہیں لالٹین کے بزنس کو ہے عروج
اندھیر! ہم جہاں سے گھسے تھے وہ ہے خروج​

لیکن عجیب بات یہ آتا ہے اب بھی بل
بل بھی ہے اسقدر کہ جلاتا ہے میرا دل​

جو روشنی کا شہر تھا برباد ہو گیا
دولت سے ان کا گھر مگر آباد ہو گیا​

اب سوچتے ہیں کس سے یہ فریاد ہم کریں
لوٹا کسی نے گھر کو ہے تاوان ہم بھریں​

آخر مچے گا شہر میں اندھیر کب تلک 
بجلی ..!یہ التجا ہے دکھا دے بس اک جھلک​

مولا یہ التجا ہے مٹا دے اب انکو تو..
کرتے ہیں بد دعا یہ تیرے لوگ با وضو...​

کر دے تو آسمان سے نازل کوئی عذاب
ظلمت کا میرے شہر میں خانہ ہو اب خراب​

آئے تیری جناب سے اب نور اے خدا
ظلمت کدے میں روشنی بھر دے میرے خدا​

حسیب احمد حسیب

لاپتہ انسانیت


لاپتہ انسانیت 






تم بھی دیکھو گے ہم بھی دیکھیںگے
بے لباسی لباس والوں کی

میری دھرتی میں ہے پزیرائی
تن کے گوروں کی من کے کالوں کی 



حسیب احمد حسیب

آنکھوں میں سحر رکھنا




غزل !

دیوار میں در رکھنا
دیوار مگر رکھنا

پرواز کے موسم تک
ٹوٹے ہوئے پر رکھنا

شیشے کی عمارت ہے
پتھر کا جگر رکھنا

حق میرا مجھے دے دو
پھر دار پہ سر رکھنا

جانا ہے عدم بستی
کیا زاد سفر رکھنا

پندار بھلے ٹوٹے
کردار مگر رکھنا

کٹ جائے بھلے گردن
دستار میں سر رکھنا

لمبی ہے شب فرقت
آنکھوں میں سحر رکھنا

سورج سے نہیں خطرہ
جگنو پہ نظر رکھنا

تہذیب کے لاشے کو
مت لا کے ادھر رکھا

باطن ہے منور تو
کیا شمس و قمر رکھنا

مشکل ہے بہت مشکل
دل میں تیرے گھر رکھنا

شعروں میں حسیب اپنے
کچھ لعل و گہر رکھنا

حسیب احمد حسیب