بدھ، 9 نومبر، 2016

جو روشنی کا شہر تھا برباد ہو گیا ......

جو روشنی کا شہر تھا برباد ہو گیا ......

ہم نے سنا ہے روشنی ہوتی ہے کوئی شے
دیکھی نہیں مگر یہ بتاتے ہیں لوگ..! ہے​

آتی تھی میرے شہر میں سنتے ہیں آج ہم
اس کو اٹھا کے لے گیا ظالم کوئی صنم​

یہ روشنی ہے کیا یہ خلل ہے دماغ کا
ہم کو نہیں پتا کہ یہ ہوتی ہے کیا بلا​

آتی ہے میرے ملک میں یہ بھی کبھی کہیں
دیکھی کسی نے ہے یہ بتاتا کوئی نہیں​

سنتے ہیں اس کو کھا گیا عفریت تھا کوئی
و الله اس کے ساتھ یہ کتنی بری ہوئی​

تاریں گلی گلی میں یہ لٹکی ہوئی ہیں کیوں
دیکھے ہے ان کو آنکھ تو آتا نہیں سکوں​

پنکھوں پے مکڑیوں نے ہیں جالے بنا دیے
لوگوں نے تیل ڈال کے اے سی جلا دیے​

سنتے ہیں لالٹین کے بزنس کو ہے عروج
اندھیر! ہم جہاں سے گھسے تھے وہ ہے خروج​

لیکن عجیب بات یہ آتا ہے اب بھی بل
بل بھی ہے اسقدر کہ جلاتا ہے میرا دل​

جو روشنی کا شہر تھا برباد ہو گیا
دولت سے ان کا گھر مگر آباد ہو گیا​

اب سوچتے ہیں کس سے یہ فریاد ہم کریں
لوٹا کسی نے گھر کو ہے تاوان ہم بھریں​

آخر مچے گا شہر میں اندھیر کب تلک 
بجلی ..!یہ التجا ہے دکھا دے بس اک جھلک​

مولا یہ التجا ہے مٹا دے اب انکو تو..
کرتے ہیں بد دعا یہ تیرے لوگ با وضو...​

کر دے تو آسمان سے نازل کوئی عذاب
ظلمت کا میرے شہر میں خانہ ہو اب خراب​

آئے تیری جناب سے اب نور اے خدا
ظلمت کدے میں روشنی بھر دے میرے خدا​

حسیب احمد حسیب

لاپتہ انسانیت


لاپتہ انسانیت 






تم بھی دیکھو گے ہم بھی دیکھیںگے
بے لباسی لباس والوں کی

میری دھرتی میں ہے پزیرائی
تن کے گوروں کی من کے کالوں کی 



حسیب احمد حسیب

آنکھوں میں سحر رکھنا




غزل !

دیوار میں در رکھنا
دیوار مگر رکھنا

پرواز کے موسم تک
ٹوٹے ہوئے پر رکھنا

شیشے کی عمارت ہے
پتھر کا جگر رکھنا

حق میرا مجھے دے دو
پھر دار پہ سر رکھنا

جانا ہے عدم بستی
کیا زاد سفر رکھنا

پندار بھلے ٹوٹے
کردار مگر رکھنا

کٹ جائے بھلے گردن
دستار میں سر رکھنا

لمبی ہے شب فرقت
آنکھوں میں سحر رکھنا

سورج سے نہیں خطرہ
جگنو پہ نظر رکھنا

تہذیب کے لاشے کو
مت لا کے ادھر رکھا

باطن ہے منور تو
کیا شمس و قمر رکھنا

مشکل ہے بہت مشکل
دل میں تیرے گھر رکھنا

شعروں میں حسیب اپنے
کچھ لعل و گہر رکھنا

حسیب احمد حسیب

 

فتویٰ دیا ہے آج یہ شیخ جدید نے




شیخ جدید !

کچرا ہمارے حسن تخیل کا کر دیا
عقدہ کشا کیا یہ کسی زن مرید نے


جنت میں حور ہونگی نہیں، ہونگے نابکار
فتویٰ دیا ہے آج یہ شیخ جدید نے

حسیب احمد حسیب​

مدعا جب بھی رکھیںگے ہم وصال یار کا

غزل !

حضرت ناصح وعیدیں ہم سمجھ پائینگے کیا 
ہم سے بادہ خوار میخانے سے گھبرائیںگے کیا

مدعا جب بھی رکھیںگے ہم وصال یار کا 
خوف ہے ہم کو وہ بولینگے تو فرمائیںگے کیا

بس یونہی خاموش بیٹھے ہم کو دیکھے جائینگے
حال دل کچھ دیر میں وہ ہم کو بتلائیںگے کیا

اے دل خوش فہم آوازیں انھیں دیتا ہے کیوں
یوں تیری آواز سن کر وہ چلے آئیںگے کیا

کاروبار زندگی ہم نے سمیٹے ہیں بہت
زندگی کے کار ہم سے پر سمٹ پائیںگے کیا

بوجھ اپنا اپنے شانوں پر لیے کب تک یونہی 
ہم فنا کے گھاٹ تک چلتے چلے جائینگے کیا

زندگی کی کوٹھری ہے مختصر کتنی حسیب
پیر اپنے ہم یہاں پر اور پھیلائیںگے کیا

حسیب احمد حسیب​
 

شعر کر دو تم اسے جو بھی کہانی دے گیا

غزل !

عشق زادوں کو محبت کی نشانی دے گیا
ہم جسے دھرائینگے ایسی کہانی دے گیا

زلزلہ اس زور کا آیا تھا میرے شہر میں
ساکنوں کو عمر بھر کی لا مکانی دے گیا

ڈوبنے کو میں گیا تھا پاس دریا کے مگر 
وہ ہنسا ہنس کر مرے  چلو میں پانی دے گیا 

دل کا مہماں بن کہ وہ ٹھہرا تھا دل میں چار دن
بے سکونی دے گیا بے اطمنانی دے گیا

میں نے جب پوچھا محبت کیا ہے تو کچھ نہ کہا
گنجلک سے چند صفحے امتحانی دے گیا

عشق کا یہ معجزہ مرنے نہیں دیتا مجھے
ایک فانی کو یہ ظالم زندگانی دے گیا 

کس مسیحا کا ترے ہر شعر پر اعجاز ہے 
کون لفظوں میں ترے ایسی روانی دے گیا

کون تھا وہ جو ہماری زندگی پر نقش ہے
کون یادوں کی ہمیں شامیں سہانی دے گیا 

کیا عجب نکتے اٹھائے تھے ہمارے سامنے 
ہم زمیں زادوں کو فکر آسمانی دے گیا

شیخ نے ایسا تصرف کر دیا دل پر میرے
قلب مردہ کو حیات جاودانی دے گیا 


کب تلک یادوں میں اس کی گم رہو گے تم حسیب 
شعر کر دو تم اسے جو بھی کہانی دے گیا 

حسیب احمد حسیب ​
 

جھانکتی ہیں تیرے آنچل سے حنائی انگلیاں



غزل!




جھانکتی ہیں تیرے آنچل سے حنائی انگلیاں 
آ بھی جاؤ دے رہی ہیں اب دھائی انگلیاں

تھام رکھا ہے تمہارا ہاتھ ہم نے اس طرح 
انگلیوں سے پا نہیں سکتیں رہائی انگلیاں 

یاد ہے مجھ کو ابھی تک آخری لمحے کا لمس 
مضطرب تھیں کس قدر وقت جدائی انگلیاں 

خوبصورت انگلیوں کی زلف سے اٹکھیلیاں 
کس طرح کرتی تھیں یاروں خود نمائی انگلیاں 

محو گردش ہے کوئی مجذوب جیسے حال میں 
تھیں کسی چہرے پہ رقصاں یوں فدائی انگلیاں

آج دیکھا ہے انہیں اس رنگ میں برسوں کے بعد 
ہاتھ ، گجرا ، ریشمی آنچل ، مٹھائی ، انگلیاں 

یوں میرے چہرے کو چھو کر دیکھتی ہیں بار بار 
دے رہی ہوں جیسے اب اپنی صفائی انگلیاں 

حسیب احمد حسیب 

ہمیں وہ کج ادا بھولا ہوا ہے




غزل !



ہمیں وہ کج ادا بھولا ہوا ہے
چلو جو بھی ہوا ا چھا ہوا ہے


سنبھل کر دیجئے مژگاں کو جنبش
کوئی پلکوں تلے بیٹھا ہوا ہے

یہ کس شیریں سخن کا ہےتبسم
اجالا دور تک پھیلا ہوا ہے

نظر کو اب کوئی بھاتا نہیں ہے
نگاہوں میں کوئی اترا ہوا ہے

کسی کی بےرخی کا غم ہے اسکو
مری بانہوں میں جو بکھرا ہوا ہے

ترے ہر اشک کی مجھ کو خبر ہے
مرے کاندھے پٰہ سر رکھا ہوا ہے

نہیں بدلا ترے جانے سے کچھ بھی
مگر سینے میں کچھ ٹوٹا ہوا ہے

چلو ساحل سے اٹھ کر گھر کو جائیں
سمندر دیر سے ٹھہرا ہوا ہے

منا لیتے ہیں چل کر ہم خدا کو
مجھے لگتا ہے وہ روٹھا ہوا ہے

میں کیسے بھول سکتا ہوں وہ گلیاں
جہاں بچپن مرا گزرا ہوا ہے

کہیں چھن جائے نہ پھر سے محبت
یہ دل میں خوف سا بیٹھا ہوا ہے

فریب زندگی ہم نے بھی کھایا
تمھارے ساتھ بھی دھوکا ہوا ہے

حسیب آؤ کہ اس سے مل کر آئیں
وہ ظالم شہر میں آیا ہوا ہے

حسیب احمد حسیب​

عجیب شعر کہے ہیں غزل میں تم نے حسیب

غزل 


بریدہ دست تھے پرچم بلند کیا کرتے
شکستہ روح تیرے ارجمند کیا کرتے 


وہیں مقیم تھےواعظ بھی شیخ بھی کل شب
تو میکدے کو سر شام بند کیا کرتے


لہو میں جن کے ہے لتھڑی ہوئی زباں انکی
وہ گرگ پرورش گوسفند کیا کرتے


وہ پیر تسمہ پا چمٹے ہوے تھے گردن سے
زمیں کے بوجھ تھے جو ، وہ ز قند کیا کرتے


جو مال و زر کے پجاری تھےمرتبوں کےغلام
کسی غریب کی بیٹی پسند کیا کرتے


بروج عشق فلک پر بلند تھے اتنے
کہ ہم زمین سے ان پر کمند کیا کرتے


بس انکی دید سے آنکھوں میں روشنی بھرتے
کہ ماہتاب کو مٹھی میں بند کیا کرتے


شکست وریخت کےمارے ہوئے تھےوہ خودبھی
تو انکے وار پھر ہم پہ گزند کیا کرتے 


تیری گلی سے گذرتے تجھے نہیں ملتے
اذیت غم ہجراں دو چند کیا کرتے


عجیب شعر کہے ہیں غزل میں تم نے حسیب
خیال خام کو اس سے بلند کیا کرتے


حسیب احمد حسیب

مجھ پہ یوں جان وہ چھڑکتے ہیں









ایک قدردان کی خدمت میں ... !

لا تعلق ہیں اور مجھ سے وہ
میری ہر بات پر بدکتے ہیں

چھوڑتے ہی نہیں وہ ٹانگ میری
مجھ پہ یوں جان وہ چھڑکتے ہیں 

حسیب احمد حسیب

ایک دوجے سے ہم جدا تو نہیں






غزل


درد دل درد لا دوا تو نہیں 
پر دوا سے بھی کچھ ہوا تو نہیں 

تیرا غم ہو یا میرا غم ہو صنم 
ایک دوجے سے ہم جدا تو نہیں

ہر منافق کو خوف ہے اس کا
کوئی چھپ چھپ کےدیکھتا تونہیں

غیر کے ساتھ وہ بہت خوش ہیں
ہم بھی خوش ہیں ہمیں گلا تو نہیں 

آپ کیوں معترض ہیں لینےمیں
یہ میرا دل ہے آپ کا تو نہیں

کیا ملے گا صدائیں دینے سے
وہ صنم ہے کوئی خدا تو نہیں

خوش گمانی ابھی تلک ہے مجھے 
وہ جفا کار بے وفا تو نہیں

کون آواز دے رہا ہے مجھے 
میں یہیں ہوں ابھی گیا تو نہیں

تم ابھی تک وہیں کھڑے ہو حسیب 
جانے والا مگر مڑا تو نہیں

حسیب احمد حسیب 

شرافت کی ہیں اک تصویر فدوی





فدوی !

ہیں میرے شیخ میرے پیر فدوی
شرافت کی ہیں اک تصویر فدوی

میں انکی شان میں لکھتا رہونگا
تو دعوت میں ہے کیوں تاخیر فدوی

حسیب احمد حسیب

دیار عشق میں کوہ و دمن میں آگ لگی

غزل !

ترے جمال سے ہے انجمن میں آگ لگی
فضاء میں روشنی پھیلی گگن میں آگ لگی 

جلا کے رکھے تھے ہم نے تو روشنی کے لیے 
یہ کس چراغ سے میرے چمن میں آگ لگی

کسی کے حسن کا سورج نکل رہا ہے کہیں 
دیار عشق میں کوہ و دمن میں آگ لگی

کچھ اس ادا سے وہ محفل میں آج آئے ہیں
ہے انگ انگ میں بھڑکی بدن میں آگ لگی

نجانے کیسی یہ تلخی در آ ئی لہجے میں
ہے بات بات میں سوزش سخن میں آگ لگی

میرے خدا میرے مالک تو بھیج ابر کرم
بجھا دے اے مرے مولیٰ وطن میں آگ لگی

یہ اسکا جسم ہے شعلہ ہے آگ ہے کہ شرار
جو دھوئے پیر تو اس نے ، لگن میں آگ لگی

یہ کس کی گرمی گفتار کی وجہ سے حسیب
ہر ایک شیریں سخن کے دھن میں آگ لگی

حسیب احمد حسیب
 

زخم کھاتے رہیں نہ گھبرائیں






مسلک عشق ... !

مسلک عشق اختیار کریں
اپنی چاہت کو بے شمار کریں

زخم کھاتے رہیں نہ گھبرائیں
آپ یہ جرم بار بار کریں

حسیب احمد حسیب 

گھر میں کیا آیا گلستاں ہو گیا​

نمکین غزل ۔۔۔ !


فقر کا عالم نمایاں ہو گیا
عید قرباں پر وہ قرباں ہو گیا​


گلبدن تھا جب تلک منڈی میں تھا
گھر میں کیا آیا گلستاں ہو گیا​


عافیت سے بیت جائے گی یہ عید 
اک قریشی جو مہرباں ہو گیا​


کس طرح طعنے سنے بیگم کے روز 
جاکے وہ تھانے کا مہماں ہو گیا​


کان کے پردے ہمارے پھٹ گئے
وہ ترنم سے غزل خواں ہو گیا​


گھر سے نکلا تھا جو سینہ تان کے 
جاکے منڈی میں پشیماں ہو گیا​


اس نے بھیجی ہے بڑے افسر کو ران 
اس کی پروموشن کا ساماں ہو گیا​


لے لیا ہے بینک اسلامی سے لون
لیجئے وہ بھی مسلماں ہو گیا​


لاٹری اس کی کھلی کہنے لگا 
آمد " بکری " کا امکاں ہو گیا​


حسیب احمد حسیب

گردش دوراں کے پهیرے میں چکر ہم نہیں کهاتے





غزل



 

گهر کی روٹی مل جائے تو باہر ہم نہیں کهاتے 
اور اگر گهر جا نہ پائیں دن بهر ہم نہیں کهاتے 

ہم نے دوانوں کی بستی میں ریت نئی یہ ڈالی 
چاک گریباں ہم نہیں کرتے پتهر ہم نہیں کهاتے 

خودداری کے صدقے ہم تو سو جاتے ہیں بھوکے 
او نچی اونچی سرکاروں کے در پر ہم نہیں کهاتے 

جهوٹ کی روٹی مکر کا سالن لوگوں کو راس آۓ
ہم ہیں سچائی کے مارے اکثر ہم نہیں کهاتے 

خدشہ ہو کس بات کا دل کو قسمت اپنی لکهی 
گردش دوراں کے پهیرے میں چکر ہم نہیں کهاتے 

سچائی کے جملوں میں بهی جهوٹ کی آمیزش ہے
ہم جو بهی الفاظ ہیں کہتے مصدر ہم نہیں کهاتے 

عشق کی راہگزر پے چلنا خوب ہمیں آتا ہے 
پیر ہمارے زخمی ہیں پر ٹهوکر ہم نہیں کهاتے





حسیب احمد حسیب 

اس نے عجب سوال اٹھایا چلا گیا






غزل

موسم ہمارے پیار کا آیا چلا گیا
کتنا حسین خواب دکھایا چلا گیا

ترک تعلقات کی منزل ہے سامنے
مژدہ یہ اس نے ہم کو سنایا چلا گیا

محنت کی اس غریب کو قیمت نہیں ملی
کاندھے پہ اس نے بوجھ اٹھایا چلا گیا

کتنا عجیب شخص تھا کچھ دن رکا مگر
گلشن کو اس نے خوب سجایا چلا گیا

دشمن میری حیات کا جاں لے گیا میری
بن کے بدن میں روح سمایا چلا گیا

دیتے رہے جواب بڑی دیر تک سبھی
اس نے عجب سوال اٹھایا چلا گیا

عکس خیال یار کو دل میں کیا جو قید
نقش جمال یار بنایا چلا گیا

کل شب کسی کی یاد نے سونے نہیں دیا
اس کا خیال دیر تک آیا چلا گیا

آیا تھا اس مدار میں کوئی نیا قمر
چکر زمیں کے گرد لگایا چلا گیا

حسیب احمد حسیب 
 

خاک پر دهوپ کی ردا اوڑهے







مزدور ... 

ان کو پرواز سے نہیں فرصت 
میں زمیں زاد ہوں غریب ہوں میں

خاک پر دهوپ کی ردا اوڑهے 
سو رہا ہوں بہت عجیب ہوں میں

حسیب احمد حسیب

میرے خدا میرے مالک اے میرے رب کریم







پاک و صاف وطن ... !

یہاں پے ظلم ہے ظلمت ہے قتل و خون یہاں
بدل دے تو یہ زمیں آسماں یہ رنگ چمن..

میرے خدا میرے مالک اے میرے رب کریم
بنادے میرے وطن کو تو پاک صاف وطن ... !

حسیب احمد حسیب

اس نے زلف سنواری ہے





غزل







اسکے نام پے بیٹھی ہے 
کتنی پاگل ناری ہے


ارمانوں کا خون ہے یا
کپڑوں پر گلکاری ہے

تنہائی ، یادوں کا بوجھ
دل پر کتنا بھاری ہے


جان ۔! تمہیں ہم کہتے ہیں 
جان ہی تم پر واری ہے


تیری جدائی کا دل پر 
وار بہت ہی کاری ہے


ہونٹوں پر آتی مسکان 
دیکھو کتنی پیاری ہے


موسم بدلا ہے یا پھر 
اس نے زلف سنواری ہے


کل شب بادل برسا تھا 
آج ہماری باری ہے


آنکھوں سے اسکی تصویر 
دل پے آج اتاری ہے


آگ بجھانے والے کے 
دامن میں چنگاری ہے


موسم سے ڈرنا کیسا 
طوفانوں سے یاری ہے


دریا میں موجوں کا حسیب 
کھیل ابھی تک جاری ہے


حسیب احمد حسیب​

آج کل انصاف کا موسم نہیں ہے شہر میں







کچی ہو گئی ... !

آج کل انصاف کا موسم نہیں ہے شہر میں 
بات یہ درویش کی دیکھو تو سچی ہو گئی

زور جتنا بھی لگایا آپ نے لیکن حضور
فیصلہ آیا میاں کا اور کچی ہو گئی

حسیب احمد حسیب

نبی کے عاشق ، نبی کی سنت ، حیات اپنی بنا رہے ہیں

نبی (صل الله علیہ وسلم ) کے عاشق ... !



نبی کے در پر کھڑے ہوئے ہیں درود پڑھتے ہی جا رہے ہیں 
نبی کا حق کیا ادا ہو اس سے ہم اپنی جنت سجا رہے ہیں

نبی کی آمد کا ہے تقاضہ نبی کی سنت کا بول بالا
نبی کے عاشق ، نبی کی سنت ، حیات اپنی بنا رہے ہیں



حسیب احمد حسیب​

سبزی کی ڈھیریوں میں چقندر تلاش کر




ہزل !

سبزی کی ڈھیریوں میں چقندر تلاش کر
مولی کے کھیت میں کہیں گاجر تلاش کر

تجھ کو زمین پہ نہیں ملتا کوئی اگر
چڑھ جا کس درخت پہ بندر تلاش کر

گھرمیں نہیں ہےروشنی اتنی نہیں ہےعقل
اندر جو کھو گیا ہے وہ باہر تلاش کر

خالی ہے اسکی اوپری منزل ابھی تلک
اسکے دماغ میں تو اتر کر تلاش کر

اپنے تخیلات کی دنیا بنا نئی
لانڈھی کے آس پاس تو بھکر تلاش کر

الجھا دیا گیا ہے تو دنیا کے پھیر میں
اس پھیر کا تو آخری چکر تلاش کر

ہلچل مچی فضاءمیں ہےتھپڑ کےشورسے
اسکے نشان تو کسی منہ پر تلاش کر

دکھتی نہیں ہے شان قلندر کہیں حسیب
پھر گردش حیات کی ٹھوکر تلاش کر

حسیب احمد حسیب​