بدھ، 9 نومبر، 2016

گردش دوراں کے پهیرے میں چکر ہم نہیں کهاتے





غزل



 

گهر کی روٹی مل جائے تو باہر ہم نہیں کهاتے 
اور اگر گهر جا نہ پائیں دن بهر ہم نہیں کهاتے 

ہم نے دوانوں کی بستی میں ریت نئی یہ ڈالی 
چاک گریباں ہم نہیں کرتے پتهر ہم نہیں کهاتے 

خودداری کے صدقے ہم تو سو جاتے ہیں بھوکے 
او نچی اونچی سرکاروں کے در پر ہم نہیں کهاتے 

جهوٹ کی روٹی مکر کا سالن لوگوں کو راس آۓ
ہم ہیں سچائی کے مارے اکثر ہم نہیں کهاتے 

خدشہ ہو کس بات کا دل کو قسمت اپنی لکهی 
گردش دوراں کے پهیرے میں چکر ہم نہیں کهاتے 

سچائی کے جملوں میں بهی جهوٹ کی آمیزش ہے
ہم جو بهی الفاظ ہیں کہتے مصدر ہم نہیں کهاتے 

عشق کی راہگزر پے چلنا خوب ہمیں آتا ہے 
پیر ہمارے زخمی ہیں پر ٹهوکر ہم نہیں کهاتے





حسیب احمد حسیب 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں