غزل
گهر کی روٹی مل جائے تو باہر ہم نہیں کهاتے
اور اگر گهر جا نہ پائیں دن بهر ہم نہیں کهاتے
ہم نے دوانوں کی بستی میں ریت نئی یہ ڈالی
چاک گریباں ہم نہیں کرتے پتهر ہم نہیں کهاتے
خودداری کے صدقے ہم تو سو جاتے ہیں بھوکے
او نچی اونچی سرکاروں کے در پر ہم نہیں کهاتے
جهوٹ کی روٹی مکر کا سالن لوگوں کو راس آۓ
ہم ہیں سچائی کے مارے اکثر ہم نہیں کهاتے
خدشہ ہو کس بات کا دل کو قسمت اپنی لکهی
گردش دوراں کے پهیرے میں چکر ہم نہیں کهاتے
سچائی کے جملوں میں بهی جهوٹ کی آمیزش ہے
ہم جو بهی الفاظ ہیں کہتے مصدر ہم نہیں کهاتے
عشق کی راہگزر پے چلنا خوب ہمیں آتا ہے
پیر ہمارے زخمی ہیں پر ٹهوکر ہم نہیں کهاتے
حسیب احمد حسیب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں