بدھ، 9 نومبر، 2016

اس نے عجب سوال اٹھایا چلا گیا






غزل

موسم ہمارے پیار کا آیا چلا گیا
کتنا حسین خواب دکھایا چلا گیا

ترک تعلقات کی منزل ہے سامنے
مژدہ یہ اس نے ہم کو سنایا چلا گیا

محنت کی اس غریب کو قیمت نہیں ملی
کاندھے پہ اس نے بوجھ اٹھایا چلا گیا

کتنا عجیب شخص تھا کچھ دن رکا مگر
گلشن کو اس نے خوب سجایا چلا گیا

دشمن میری حیات کا جاں لے گیا میری
بن کے بدن میں روح سمایا چلا گیا

دیتے رہے جواب بڑی دیر تک سبھی
اس نے عجب سوال اٹھایا چلا گیا

عکس خیال یار کو دل میں کیا جو قید
نقش جمال یار بنایا چلا گیا

کل شب کسی کی یاد نے سونے نہیں دیا
اس کا خیال دیر تک آیا چلا گیا

آیا تھا اس مدار میں کوئی نیا قمر
چکر زمیں کے گرد لگایا چلا گیا

حسیب احمد حسیب 
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں