ہفتہ، 18 مارچ، 2017

ہم عشق کی مستی میں شاداں ، اظہار تمنا بھول گۓ

غزل

ہم عشق کی مستی میں شاداں ، اظہار تمنا بھول گۓ
اب آپ ہی خود پر ہنستے ہیں ، کیا یاد رہا کیا بھول گۓ


ہم حسن سماعت کے مارے ، آواز تو انکی یاد رہی
محروم تصور ہیں کتنے ہیں ، ہم انکا سراپا بھول گۓ 


کچھ دور توانکی رخصت کو رستے میں ہم انکے ساتھ چلے 
کب آؤ گے ہم نے پوچھا تھا ، مت جاؤ یہ کہنا بھول گۓ


اب آخر شب میں سورج کے دیدار کی ہم میں تاب نہیں 
ہم اس کی گلی سے گزرے تو، پر جان کے ملنا بھول گۓ

اس شوخ ادا کی باتوں نے اک سحر سا ہم پر پھونکا تھا 
کیا سوچ کے بیٹھے تھے دل میں کیا بات تھی کہنا بھول گۓ

وہ دور ہیں ہم سے پر خوش ہیں وہ خوش ہیں اس پر ہم خوش ہیں 
اب اپنے دکھوں پر کیا رونا ، کیا غم تھا ہمارا بھول گۓ

اشعار میں دل کی باتوں کو ، کیوں کھول رہے ہو آج حسیب
کیا ضبط کا دامن چھوٹ گیا ، یا ہونٹ کو سینا بھول گۓ


حسیب احمد حسیب

بس بچائے گا اب خدا مجھ کو

تازہ غزل لوگ سمجھے ہیں جانے کیا مجھ کو بس بچائے گا اب خدا مجھ کو اسکے جانے کے بعد مشکل ہے کوئی بھائے گا دوسرا مجھ کو موت آۓ غم فراق تجھے کردیا جانے کیا سے کیا مجھ کو وہ ابھی تک مجھے نہیں بھولا لوگ دیتے ہیں آسرا مجھ کو دو قدم دور ہے مری منزل کب سے کہتا ہے ناخدا مجھ کو مجھ کو خوشیاں ملی ہیں ایسی بھی جن کا مشکل تھا سوچنا مجھ کو میری مجبوریاں قیامت تھیں تم سمجھ بیٹھے بے وفا مجھ کو خون دینے غریب ہی آئے شیخ دیتا رہا دعا مجھ کو جانتا ہوں ہر اک ادا اس کی وہ دکھائے گا کیا نیا مجھ کو جب میں بولا تو رک گئی دنیا وہ سمجھتے تھے بے نوا مجھ کو کتنا مشکل حسیب ہے جینا حوصلہ دے مرے خدا مجھ کو حسیب احمد حسیب