تازہ غزل
لوگ سمجھے ہیں جانے کیا مجھ کو
بس بچائے گا اب خدا مجھ کو
اسکے جانے کے بعد مشکل ہے
کوئی بھائے گا دوسرا مجھ کو
موت آۓ غم فراق تجھے
کردیا جانے کیا سے کیا مجھ کو
وہ ابھی تک مجھے نہیں بھولا
لوگ دیتے ہیں آسرا مجھ کو
دو قدم دور ہے مری منزل
کب سے کہتا ہے ناخدا مجھ کو
مجھ کو خوشیاں ملی ہیں ایسی بھی
جن کا مشکل تھا سوچنا مجھ کو
میری مجبوریاں قیامت تھیں
تم سمجھ بیٹھے بے وفا مجھ کو
خون دینے غریب ہی آئے
شیخ دیتا رہا دعا مجھ کو
جانتا ہوں ہر اک ادا اس کی
وہ دکھائے گا کیا نیا مجھ کو
جب میں بولا تو رک گئی دنیا
وہ سمجھتے تھے بے نوا مجھ کو
کتنا مشکل حسیب ہے جینا
حوصلہ دے مرے خدا مجھ کو
حسیب احمد حسیب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں