ہفتہ، 18 مارچ، 2017

بس بچائے گا اب خدا مجھ کو

تازہ غزل لوگ سمجھے ہیں جانے کیا مجھ کو بس بچائے گا اب خدا مجھ کو اسکے جانے کے بعد مشکل ہے کوئی بھائے گا دوسرا مجھ کو موت آۓ غم فراق تجھے کردیا جانے کیا سے کیا مجھ کو وہ ابھی تک مجھے نہیں بھولا لوگ دیتے ہیں آسرا مجھ کو دو قدم دور ہے مری منزل کب سے کہتا ہے ناخدا مجھ کو مجھ کو خوشیاں ملی ہیں ایسی بھی جن کا مشکل تھا سوچنا مجھ کو میری مجبوریاں قیامت تھیں تم سمجھ بیٹھے بے وفا مجھ کو خون دینے غریب ہی آئے شیخ دیتا رہا دعا مجھ کو جانتا ہوں ہر اک ادا اس کی وہ دکھائے گا کیا نیا مجھ کو جب میں بولا تو رک گئی دنیا وہ سمجھتے تھے بے نوا مجھ کو کتنا مشکل حسیب ہے جینا حوصلہ دے مرے خدا مجھ کو حسیب احمد حسیب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں