بدھ، 9 نومبر، 2016

زخم دل کا قصور ہے سارا غیر ممکن ہے اب یہ سل جائے

غزل 


کوئی ہوگا ہمارے جیسا بھی کیا ضروری ہے ان کو مل جائے
گل تو گل ہے مگر نہیں لازم ان کے گلشن میں آج کھل جائے

یہ تجارت ہے عشق کی اس میں ہم نے سودے کیے ہیں گھاٹے کے 
ان کے ہونٹوں پہ لفظ چاہت کے اور بدلے میں اپنا دل جائے 

تیرے فن پر نہیں سوال کوئی تو رفو گر ہے اور اچھا ہے
زخم دل کا قصور ہے سارا غیر ممکن ہے اب یہ سل جائے 

خانقاہی مزاج ہے میرا میں محبت کے بیج بوتا ہوں 
دشمن جاں بھی میری محفل سے ہے عبث اٹھ کے مشتعل جائے

بس " وفا " عشق کی عمارت کا اک اکیلا ستون ہے لوگو 
یہ عمارت نہ رہ سکے قائم اپنی جا سے اگر یہ ہل جائے



حسیب احمد حسیب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں