غزل !حضرت ناصح وعیدیں ہم سمجھ پائینگے کیاہم سے بادہ خوار میخانے سے گھبرائیںگے کیامدعا جب بھی رکھیںگے ہم وصال یار کاخوف ہے ہم کو وہ بولینگے تو فرمائیںگے کیابس یونہی خاموش بیٹھے ہم کو دیکھے جائینگےحال دل کچھ دیر میں وہ ہم کو بتلائیںگے کیااے دل خوش فہم آوازیں انھیں دیتا ہے کیوںیوں تیری آواز سن کر وہ چلے آئیںگے کیاکاروبار زندگی ہم نے سمیٹے ہیں بہتزندگی کے کار ہم سے پر سمٹ پائیںگے کیابوجھ اپنا اپنے شانوں پر لیے کب تک یونہیہم فنا کے گھاٹ تک چلتے چلے جائینگے کیازندگی کی کوٹھری ہے مختصر کتنی حسیبپیر اپنے ہم یہاں پر اور پھیلائیںگے کیاحسیب احمد حسیب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں