بدھ، 9 نومبر، 2016

گھر میں کیا آیا گلستاں ہو گیا​

نمکین غزل ۔۔۔ !


فقر کا عالم نمایاں ہو گیا
عید قرباں پر وہ قرباں ہو گیا​


گلبدن تھا جب تلک منڈی میں تھا
گھر میں کیا آیا گلستاں ہو گیا​


عافیت سے بیت جائے گی یہ عید 
اک قریشی جو مہرباں ہو گیا​


کس طرح طعنے سنے بیگم کے روز 
جاکے وہ تھانے کا مہماں ہو گیا​


کان کے پردے ہمارے پھٹ گئے
وہ ترنم سے غزل خواں ہو گیا​


گھر سے نکلا تھا جو سینہ تان کے 
جاکے منڈی میں پشیماں ہو گیا​


اس نے بھیجی ہے بڑے افسر کو ران 
اس کی پروموشن کا ساماں ہو گیا​


لے لیا ہے بینک اسلامی سے لون
لیجئے وہ بھی مسلماں ہو گیا​


لاٹری اس کی کھلی کہنے لگا 
آمد " بکری " کا امکاں ہو گیا​


حسیب احمد حسیب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں