بدھ، 9 نومبر، 2016

مدتوں تک اہل دل کو یاد آئے گی غزل

غزل 

مدتوں تک اہل دل کو یاد آئے گی غزل
یہ غزل ہوتی ہے کیا خود ہی بتائے گی غزل

آٹھ دس اشعار جوڑینگے اگر ترتیب سے
پھر غزل کی رات کی محفل سجائے گی غزل

شعر کے مصرعوں کے جیسا ہے تعلق آپ سے 
یوں اگر ملتے رہے تو ہو ہی جائے گی غزل

پیر میں زنجیر پہنے رقص کرتی راگنی 
کیا ! زبان بندی کے موسم میں سنائے گی غزل

کورے کاغذ پر لکھی ہے جو جگر کے خون سے 
دیکھیے کل کو وہ کیا طوفاں اٹھائے گی غزل

خواب خوشبو روشنی شوخی ادا اور رنگ و بو
یہ عناصر ہوں تو کیا تیور دکھائے گی غزل

آپ جیسے صاحبان ذوق کی تعریف سے
رنگ کیسا آج دیکھیںگے جمائے گی غزل

آپ کے افکار کی پیچیدگی تو ہے وبال 
بوجھ اس پیچیدگی کا کیا اٹھائے گی غزل

حسن کے پیکر کی جو توصیف لکھے گا حسیب 
لفظ مھکینگے غزل کے مسکرائے گی غزل

حسیب احمد حسیب​

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں