بدھ، 9 نومبر، 2016

فتویٰ دیا ہے آج یہ شیخ جدید نے




شیخ جدید !

کچرا ہمارے حسن تخیل کا کر دیا
عقدہ کشا کیا یہ کسی زن مرید نے


جنت میں حور ہونگی نہیں، ہونگے نابکار
فتویٰ دیا ہے آج یہ شیخ جدید نے

حسیب احمد حسیب​

مدعا جب بھی رکھیںگے ہم وصال یار کا

غزل !

حضرت ناصح وعیدیں ہم سمجھ پائینگے کیا 
ہم سے بادہ خوار میخانے سے گھبرائیںگے کیا

مدعا جب بھی رکھیںگے ہم وصال یار کا 
خوف ہے ہم کو وہ بولینگے تو فرمائیںگے کیا

بس یونہی خاموش بیٹھے ہم کو دیکھے جائینگے
حال دل کچھ دیر میں وہ ہم کو بتلائیںگے کیا

اے دل خوش فہم آوازیں انھیں دیتا ہے کیوں
یوں تیری آواز سن کر وہ چلے آئیںگے کیا

کاروبار زندگی ہم نے سمیٹے ہیں بہت
زندگی کے کار ہم سے پر سمٹ پائیںگے کیا

بوجھ اپنا اپنے شانوں پر لیے کب تک یونہی 
ہم فنا کے گھاٹ تک چلتے چلے جائینگے کیا

زندگی کی کوٹھری ہے مختصر کتنی حسیب
پیر اپنے ہم یہاں پر اور پھیلائیںگے کیا

حسیب احمد حسیب​
 

شعر کر دو تم اسے جو بھی کہانی دے گیا

غزل !

عشق زادوں کو محبت کی نشانی دے گیا
ہم جسے دھرائینگے ایسی کہانی دے گیا

زلزلہ اس زور کا آیا تھا میرے شہر میں
ساکنوں کو عمر بھر کی لا مکانی دے گیا

ڈوبنے کو میں گیا تھا پاس دریا کے مگر 
وہ ہنسا ہنس کر مرے  چلو میں پانی دے گیا 

دل کا مہماں بن کہ وہ ٹھہرا تھا دل میں چار دن
بے سکونی دے گیا بے اطمنانی دے گیا

میں نے جب پوچھا محبت کیا ہے تو کچھ نہ کہا
گنجلک سے چند صفحے امتحانی دے گیا

عشق کا یہ معجزہ مرنے نہیں دیتا مجھے
ایک فانی کو یہ ظالم زندگانی دے گیا 

کس مسیحا کا ترے ہر شعر پر اعجاز ہے 
کون لفظوں میں ترے ایسی روانی دے گیا

کون تھا وہ جو ہماری زندگی پر نقش ہے
کون یادوں کی ہمیں شامیں سہانی دے گیا 

کیا عجب نکتے اٹھائے تھے ہمارے سامنے 
ہم زمیں زادوں کو فکر آسمانی دے گیا

شیخ نے ایسا تصرف کر دیا دل پر میرے
قلب مردہ کو حیات جاودانی دے گیا 


کب تلک یادوں میں اس کی گم رہو گے تم حسیب 
شعر کر دو تم اسے جو بھی کہانی دے گیا 

حسیب احمد حسیب ​
 

جھانکتی ہیں تیرے آنچل سے حنائی انگلیاں



غزل!




جھانکتی ہیں تیرے آنچل سے حنائی انگلیاں 
آ بھی جاؤ دے رہی ہیں اب دھائی انگلیاں

تھام رکھا ہے تمہارا ہاتھ ہم نے اس طرح 
انگلیوں سے پا نہیں سکتیں رہائی انگلیاں 

یاد ہے مجھ کو ابھی تک آخری لمحے کا لمس 
مضطرب تھیں کس قدر وقت جدائی انگلیاں 

خوبصورت انگلیوں کی زلف سے اٹکھیلیاں 
کس طرح کرتی تھیں یاروں خود نمائی انگلیاں 

محو گردش ہے کوئی مجذوب جیسے حال میں 
تھیں کسی چہرے پہ رقصاں یوں فدائی انگلیاں

آج دیکھا ہے انہیں اس رنگ میں برسوں کے بعد 
ہاتھ ، گجرا ، ریشمی آنچل ، مٹھائی ، انگلیاں 

یوں میرے چہرے کو چھو کر دیکھتی ہیں بار بار 
دے رہی ہوں جیسے اب اپنی صفائی انگلیاں 

حسیب احمد حسیب 

ہمیں وہ کج ادا بھولا ہوا ہے




غزل !



ہمیں وہ کج ادا بھولا ہوا ہے
چلو جو بھی ہوا ا چھا ہوا ہے


سنبھل کر دیجئے مژگاں کو جنبش
کوئی پلکوں تلے بیٹھا ہوا ہے

یہ کس شیریں سخن کا ہےتبسم
اجالا دور تک پھیلا ہوا ہے

نظر کو اب کوئی بھاتا نہیں ہے
نگاہوں میں کوئی اترا ہوا ہے

کسی کی بےرخی کا غم ہے اسکو
مری بانہوں میں جو بکھرا ہوا ہے

ترے ہر اشک کی مجھ کو خبر ہے
مرے کاندھے پٰہ سر رکھا ہوا ہے

نہیں بدلا ترے جانے سے کچھ بھی
مگر سینے میں کچھ ٹوٹا ہوا ہے

چلو ساحل سے اٹھ کر گھر کو جائیں
سمندر دیر سے ٹھہرا ہوا ہے

منا لیتے ہیں چل کر ہم خدا کو
مجھے لگتا ہے وہ روٹھا ہوا ہے

میں کیسے بھول سکتا ہوں وہ گلیاں
جہاں بچپن مرا گزرا ہوا ہے

کہیں چھن جائے نہ پھر سے محبت
یہ دل میں خوف سا بیٹھا ہوا ہے

فریب زندگی ہم نے بھی کھایا
تمھارے ساتھ بھی دھوکا ہوا ہے

حسیب آؤ کہ اس سے مل کر آئیں
وہ ظالم شہر میں آیا ہوا ہے

حسیب احمد حسیب​

عجیب شعر کہے ہیں غزل میں تم نے حسیب

غزل 


بریدہ دست تھے پرچم بلند کیا کرتے
شکستہ روح تیرے ارجمند کیا کرتے 


وہیں مقیم تھےواعظ بھی شیخ بھی کل شب
تو میکدے کو سر شام بند کیا کرتے


لہو میں جن کے ہے لتھڑی ہوئی زباں انکی
وہ گرگ پرورش گوسفند کیا کرتے


وہ پیر تسمہ پا چمٹے ہوے تھے گردن سے
زمیں کے بوجھ تھے جو ، وہ ز قند کیا کرتے


جو مال و زر کے پجاری تھےمرتبوں کےغلام
کسی غریب کی بیٹی پسند کیا کرتے


بروج عشق فلک پر بلند تھے اتنے
کہ ہم زمین سے ان پر کمند کیا کرتے


بس انکی دید سے آنکھوں میں روشنی بھرتے
کہ ماہتاب کو مٹھی میں بند کیا کرتے


شکست وریخت کےمارے ہوئے تھےوہ خودبھی
تو انکے وار پھر ہم پہ گزند کیا کرتے 


تیری گلی سے گذرتے تجھے نہیں ملتے
اذیت غم ہجراں دو چند کیا کرتے


عجیب شعر کہے ہیں غزل میں تم نے حسیب
خیال خام کو اس سے بلند کیا کرتے


حسیب احمد حسیب

مجھ پہ یوں جان وہ چھڑکتے ہیں









ایک قدردان کی خدمت میں ... !

لا تعلق ہیں اور مجھ سے وہ
میری ہر بات پر بدکتے ہیں

چھوڑتے ہی نہیں وہ ٹانگ میری
مجھ پہ یوں جان وہ چھڑکتے ہیں 

حسیب احمد حسیب