شیخ جدید !
کچرا ہمارے حسن تخیل کا کر دیا
کچرا ہمارے حسن تخیل کا کر دیا
عقدہ کشا کیا یہ کسی زن مرید نے
جنت میں حور ہونگی نہیں، ہونگے نابکار
فتویٰ دیا ہے آج یہ شیخ جدید نے
حسیب احمد حسیب
فتویٰ دیا ہے آج یہ شیخ جدید نے
حسیب احمد حسیب
غزل !حضرت ناصح وعیدیں ہم سمجھ پائینگے کیاہم سے بادہ خوار میخانے سے گھبرائیںگے کیامدعا جب بھی رکھیںگے ہم وصال یار کاخوف ہے ہم کو وہ بولینگے تو فرمائیںگے کیابس یونہی خاموش بیٹھے ہم کو دیکھے جائینگےحال دل کچھ دیر میں وہ ہم کو بتلائیںگے کیااے دل خوش فہم آوازیں انھیں دیتا ہے کیوںیوں تیری آواز سن کر وہ چلے آئیںگے کیاکاروبار زندگی ہم نے سمیٹے ہیں بہتزندگی کے کار ہم سے پر سمٹ پائیںگے کیابوجھ اپنا اپنے شانوں پر لیے کب تک یونہیہم فنا کے گھاٹ تک چلتے چلے جائینگے کیازندگی کی کوٹھری ہے مختصر کتنی حسیبپیر اپنے ہم یہاں پر اور پھیلائیںگے کیاحسیب احمد حسیب
غزل !
عشق زادوں کو محبت کی نشانی دے گیا
ہم جسے دھرائینگے ایسی کہانی دے گیا
زلزلہ اس زور کا آیا تھا میرے شہر میں
ساکنوں کو عمر بھر کی لا مکانی دے گیا
ڈوبنے کو میں گیا تھا پاس دریا کے مگر
وہ ہنسا ہنس کر مرے چلو میں پانی دے گیا
دل کا مہماں بن کہ وہ ٹھہرا تھا دل میں چار دن
بے سکونی دے گیا بے اطمنانی دے گیا
میں نے جب پوچھا محبت کیا ہے تو کچھ نہ کہا
گنجلک سے چند صفحے امتحانی دے گیا
عشق کا یہ معجزہ مرنے نہیں دیتا مجھے
ایک فانی کو یہ ظالم زندگانی دے گیا
کس مسیحا کا ترے ہر شعر پر اعجاز ہے
کون لفظوں میں ترے ایسی روانی دے گیا
کون تھا وہ جو ہماری زندگی پر نقش ہے
کون یادوں کی ہمیں شامیں سہانی دے گیا
کیا عجب نکتے اٹھائے تھے ہمارے سامنے
ہم زمیں زادوں کو فکر آسمانی دے گیا
شیخ نے ایسا تصرف کر دیا دل پر میرے
قلب مردہ کو حیات جاودانی دے گیا
کب تلک یادوں میں اس کی گم رہو گے تم حسیب
شعر کر دو تم اسے جو بھی کہانی دے گیا
حسیب احمد حسیب